Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بینکوں سے قرض لینا جائز ہے؟

Fatwa no.
5014:Pin
Issued
25 جمادی الثانی 1438 /25مارچ2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بینک سے قرض لینا جائز ہے یا نہیں ؟ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ بینک سے جور تم ہم لیں گے اس سے کچھ زائد رقم اپنے مقررہ وقت پر قسطوں کی صورت میں واپس کرنا ہوگی، یہ شرعاً جائز سائل : خضر حیات (ڈیرہ غازیخان)

Answer (beginning)

بینک سے اس طرح قرض لینا سراسر نا جائز و حرام ہے کہ یہ معاملہ قرض پر نفع کی شرط کی وجہ سے سراسر سودی ہے ، اور سود لینا اور دینا دونوں سخت حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَن جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat daruliftaahlesunnat f DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.