Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا دم والا جانور زندہ شرعی فقیر کو دینا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 994:Aqs
- Issued
- 16 جمادی الثانی 1438ھ / 16مارچ2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حج یا عمرہ میں جو دم واجب ہوتا ہے وہ اگر کوئی شخص جانور لے کر زندہ ہی فقیر شرعی کو دیدے تو کیا اس سے دم پورا ہو جاتا ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
حج و عمرہ میں جہاں دم کا ذکر ہے تو اس سے مراد جانور کو حدود حرم میں ذبح کرنا ہے چاہے وہ دم کی کوئی بھی قسم ہو ، دم شکر ، یادم جبر ۔ لہذا اس جانور کی قربانی ہو نا ہی ضروری ہے ، زندہ جانور صدقہ کرنے سے دم ساقط نہیں ہوگا نیز یہ ذبیح بھی حدود حرم میں ہی ہو گا تو کفایت کرے گا ورنہ نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-Ifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.