Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا فرض نماز کی آخری دورکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 5077:Pin
- Issued
- 01 رجب المرجب 1438ھ /30 مارچ2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں کہ : (۱) فرائض کی آخری دور کعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا کیا حکم ہے، اگر کسی نے نہ پڑھی تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی ؟ (۲) انہی دور کعتوں میں اگر کوئی فاتحہ کے ساتھ سورت بھی ملاتا ہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
سائل : گلریز عطاری ( واہ کینٹ) (۱) فرائض کی آخری دور کعتوں میں امام و منفر د دونوں کے لئے افضل یہی ہے کہ سورۂ فاتحہ پڑھیں،البتہ اگر کسی نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی بلکہ اس کی جگہ تسبیحات پڑھیں یا تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار خاموش کھڑا رہا تب بھی نماز ہو جائے گی، اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا، البتہ بالکل خاموش کھڑے رہنا مناسب نہیں۔ (۲) فرائض کی آخری دور کعتوں یا مغرب کی تیسری رکعت میں بھولے سے یا جان بوجھ کر بھی اگر فاتحہ کے ساتھ سورت ملائی تو نماز درست ہے، بلکہ بعض آئمہ کے نزدیک منفرد کے حق میں فاتحہ کے بعد سورت ملانا مستحب ہے، البتہ امام کے حق میں مکر وہ اور اگر مقتدیوں پر گراں گزرے تو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.