Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز فجر کےدوران سورج طلوع ہو جائے توکیا نماز ہو جائے گی؟
- Fatwa no.
- 986:Aqs
- Issued
- 07 جمادی الثانی 1438ھ /07مارچ2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر فجر کی نماز پڑھتے ہوئے اتنی تاخیر ہو جائے کہ دوسری رکعت میں ہی کھڑے تھے کہ سورج طلوع ہو گیا تو وہ نماز ہوئی یا نہیں؟
Answer (beginning)
سائل : محمد جمیل (ملیر کراچی) پوچھی گئی صورت میں وہ فجر کی نماز نہ ہوئی کیونکہ نماز فجر پڑھتے ہوئے سورج طلوع ہو جانے کی صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر التحیات میں بیٹھنے سے پہلے یا ٹھنے کے بعد تشہد کی مقدار گزرنے سے پہلے سورج طلوع ہو گیا تو فجر کی نماز بالا تفاق نہیں ہو گی، اور اگر تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد ایک طرف سلام پھیرنے سے پہلے سورج طلوع ہوا تو بھی امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک فرض باطل ہو جائیں گے اور اس کی قضاذ مے پر رہے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.