Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا قرآن پاک کا سچا حلف اٹھانے سے کوئی نقصان ہوتا ہے؟

Fatwa no.
873:Aqs
Issued
27 محرم الحرام 1438ھ/29اکتوبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے گھر پر بھا بھی کے ساتھ میری بیوی کی کسی بات پر بحث و تکرار ہوئی ہے بالآخر بیوی نے قرآن مجید ہاتھ میں اٹھا کر قسم کھا کر اپنی بات کو بیان کیا ہے اب میری بیوی پریشان ہے کہ قرآن کا حلف نہیں اٹھانا چاہیے تھا جبکہ بیوی نے جو کچھ قسم اٹھائی وہ بالکل سو فیصد سچ ہی بیان کیا ہے تو کیا سچا حلف اٹھانے میں کوئی نقصان والا معاملہ تو نہیں ہو گا اس کی رہنمائی فرما دیں؟

Answer (beginning)

سچی قسم یا قرآن پاک کا سچا حلف اٹھانے میں تو حرج نہیں، اور نہ ہی سچا حلف اٹھانے سے کوئی نقصان کا پہلو ہے البتہ جہاں تک ہو سکے تو قسم سے بچنا ہی چاہیے ، اور بلا شدید ضرورت کے قرآن پاک کا حلف بھی نہیں اٹھانا چاہیے اور ضرورت ہو تو اٹھا سکتے ہیں تاکہ سامنے والے کو یقین حاصل ہو جائے ، یہ حکم تو سچی قسم و حلف کا ہے اور جھوٹی بات پر قرآن مجید کی قسم کھانا، یا حلف اٹھا نا سخت ناجائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.