Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

الٹی شلوار پہن کر نماز پڑھنا کیسا؟

Fatwa no.
991:Aqs
Issued
11 جمادی الثانی 1438ھ /11 مارچ2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر الٹی شلوار پہن کر نماز پڑھ لی تو وہ نماز واجب سائل : حافظ سعید چشتی (صدر، کراچی)

Answer (beginning)

الٹا کپڑا پہن یا اوڑھ کر نماز پڑھنا خلاف آولی ، مکروہ تنزیہی ہے البتہ نماز ہو جائے گی اور اس کو دوبارہ پڑھنا واجب نہیں۔ لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہے کہ نمازی کپڑے کی طرف دھیان ہی نہ کرے، کپڑا جس حالت میں ہو پہن کر نماز پڑھ لے ، نمازی کے لباس کا پاک ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی حالت کا ہو کہ اگر کسی بڑے کے سامنے اسی لباس میں جانا پڑے تو بغیر شرمندگی بآسانی جاسکے ،اسی وجہ سے علماء کرام نے کام کاج، محنت و مشقت والے کپڑے پہن کر نماز پڑھنے کو مکر وہ فرماتے ہیں کیونکہ وہ عمومی ایسی حالت کے ہوتے ہیں کہ جسے پہن کر بڑوں کے سامنے کوئی نہیں جائے گا تو اللہ عزوجل کی بارگاہ زیادہ حقدار ہے کہ وہاں آدمی اچھے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.