Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صبح صادق طلوع ہونے کے بعد نوافل پڑھ سکتے ہیں؟

Fatwa no.
5021:Pin
Issued
15 جمادی الاول 1438ھ /13 فروری2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ صبح کی نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد تحیۃ الوضو سائل : محمد ثقلین فانی (کمڑیال، پنڈی گھیپ،اٹک) اور تحیۃ المسجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer (beginning)

صبح کی نماز کا وقت شروع ہونے یعنی صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد سورج طلوع ہونے تک سنت فجر کے علاوہ کوئی سنت و نفل نہیں پڑھ سکتے چاہے سنت الوضو اور تحیۃ المسجد ہی ہوں، اس وقت سنت فجر کے علاوہ کوئی سنت یا نفل پڑھنا مکروہ تحریمی اور گناہ ہے ، پھر سورج طلوع ہونے کے بیس منٹ بعد تک بھی کوئی نماز پڑھنا اور سجدہ تلاوت و سجدۂ سہو جائز نہیں کہ یہ مکر وہ وقت ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سنت فجر میں ہی تحیۃ المسجد اور سنت الوضو کی بھی نیت کرلے تو اس کو ان دونوں کا بھی ثواب مل جائے گا کیونکہ ان کے لیے الگ الگ نفل نئی نیت سے پڑھنے کی حاجت نہیں ہے بلکہ تحیۃ المسجد اور سنت الوضود ونوں اپنی شرائط کے ساتھ کوئی بھی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.