Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقدمے کے زور پر دوسروں کا مال ناحق کھانا کیسا؟

Fatwa no.
6277:Lar
Issued
03 جمادی الاول 1438ھ/01 فروری2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے اپنی زمین دو آدمیوں بکر و عمرو کو فروخت کر کے قبضہ بھی دے دیا، قریب آبادی کے لوگ زید کے گھر گئے اور اس سے کہا کہ ہمار اراستہ آپ کی زمین میں سے آتا ہے ، ہمارے ساتھ آپ کیا کریں گے اس پر زید نے کہا: میں نے اپنی ساری زمین بکر و عمرو کو فروخت کر دی ہے لہذار استہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس پر لوگ بکر و عمرو کے پاس گئے اور راستے کے حوالے سے بات چیت کی تو بکر و عمرو نے ایک مخصوص رقم بتا کر کہا: اتنی رقم دو تو راستہ بھی ملے گا اور سکیم میں جتنی سہولیات ہیں : گیس، پانی، بجلی وغیرہ وہ بھی آپ کو ملے گی اس پر آبادی کے لوگوں نے وہ مخصوص رقم ان کو دے دی لیکن کوئی سہولت نہیں ملی۔ اب ہماری گلیوں میں گیس پائپ لائن ڈل رہی تھی کہ زید STAYلے کر آگیا، ہماری گلیوں کی گیس پائپ لائن روک دی گئی ہے، اس پر بستی کے چند لوگ زید کے گھر گئے اور اس کے متعلق اس سے باز پرس کی تو زید نے کہا کہ بکر وعمرو کو آپ لوگوں نے اتنی رقم دی ہے 5لاکھ مجھے بھی دیں، میں یہ رقم مسجد کے اوپر خرچ کروں گا اور اپنا STAY واپس لے لوں گا۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ بکر کا اس طرح 5لاکھ لینا جائز ہے یا نہیں؟ سائل : احمد علی عطاری (سلامت پورہ،لاہور)

Answer (beginning)

صورت مسئولہ اگر درست ہے تو زید کا بستی والوں سے جبر امقدمہ کے زور پر مال لینا نا جائز و حرام ہے اگر چہ اس کی نیت یہی ہو کہ یہ مال مسجد میں خرچ کیا جائے گا اس لیے کہ یہ مسلمانوں کا مال ناحق کھانا ہے جس سے قرآن و حدیث میں ممانعت فرمائی گئی ہے۔ نیز زید کا مسلمانوں کے جائز کام میں رکاوٹ ڈالنا بھی ناجائز ہے کہ اس میں بلاوجہ شرعی مسلمان کو ایذاء وضر ر دینا ہے جس سے شریعت میں ممانعت فرمائی گئی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.