Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مسجد کے چندے سے امام کو موٹرسائیکل دلاسکتے ہیں؟

Fatwa no.
6080:Lar
Issued
22 محرم الحرام 1438ھ /24اکتوبر 2016ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کے امام صاحب کو مسجد کی کمیٹی نے مسجد کے چندے سے موٹر سائیکل لے کر دی تاکہ وہ اس پر جامعہ میں جاسکیں۔ اور یہ دینا بطور مالک بنانا نہیں ہے بلکہ عارضی طور پر دی ہے کہ جب جامعہ چھوڑ دیں گے تو موٹر سائیکل واپس کر دیں گے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ مسجد کے چندے سے اس طرح مسجد کی کمیٹی کا امام صاحب کو موٹر سائیکل لے کر دینا شرعا کیسا ہے؟ حالانکہ ایسا کرنے کا وہاں کوئی رواج نہیں ہے۔ سائل : قمر الیاس (گوجرانوالہ)

Answer (beginning)

مسجد کی کمیٹی کا امام صاحب کو مسجد کے چندے سے موٹر سائیکل لے کر دینا شرعا نا جائز و حرام ہے کہ اس کا عرف نہیں ہے اور مسجد کا چندہ انہی مصارف میں صرف کرنے کے لیے ہوتا ہے جو رائج و معروف ہوں ۔ پس ان پر لازم ہے کہ اس فعل سے تو بہ کریں اور جس نے موٹر سائیکل کی قیمت مسجد کے چندے سے ادا کی وہ اتنی رقم اپنے پہلے سے مسجد میں بطور تاوان ادا کرے۔ اور آئندہ ہر گز ہر گز اس طرح کا کام نہ کرے۔ اور جب چندے سے موٹر سائیکل خریدنے کی اجازت نہیں تھی تو اس صورت میں یہ موٹر سائیکل خریدنے والے کی ملک آئی اور جب اس نے امام صاحب کو مالکانہ طور پر نہیں دی تو ابھی اس کی ملک ہے جس نے اسے خریدا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.