Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان مغرب کے 12 منٹ بعد جماعت قائم کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1811:Lar
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مغرب کی اذان اور اقامت میں کتنا وقفہ کرنا چاہیے ؟ اگر مغرب کی اذان کے بعد تقریبا 12 منٹ کا شرعی مسائل پر بیان کیا جائے پھر جماعت کھڑی کی جائے تو کیا اس میں کوئی حرج تو نہیں اور یہ بیان جدول کے مطابق روزانہ ہوا کرے گا؟ سائل : ابو مدنی محمد ارشد عطاری (نرنگ مین بازار لاہور )
Answer (beginning)
قرآن مجید کی تین چھوٹی آیات یا ایک بڑی آیت پڑھنے میں جتنا وقت لگتا ہے اتنی دیر مغرب کی اذان واقامت کے درمیان کھڑے کھڑے وقفہ کرنا چاہیے اور اتنی دیر کے لیے بیٹھا گیا تو بھی جائز ہے مگر خلاف افضل ہے اور اگر دورکعت کی مقدار یا اس سے زائد تاخیر کی تو بالا اتفاق مکروہ تنزیہی ہے اور اگر بلا عذر شرعی اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ گئے ( یعنی چھوٹے ستارے بھی ظاہر ہو کر گھنے ہو گئے کذا فی الفتاوی الرضویہ) تو مکروہ تحریمی ہے لہذا صورت مسئولہ میں 12 منٹ بیان کے ذریعے مغرب کی اذان واقامت میں فاصلہ کرنا بالاتفاق مکروہ و نا پسندیدہ عمل ہے کہ یقینا یہ دور کعت کی مقدار سے زائد ہے لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.