Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مسلمان مرد عیسائی عورت سے نکاح کرسکتا ہے؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 4995:Pin
- Issued
- 04 جمادی الاول 1438ھ/02فروری2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا مسلمان مرد کسی اہل کتاب (یعنی عیسائی) عورت سے نکاح کر سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
فی زمانہ عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد اپنے اصل مذہب سے منحرف ہو کر دہریہ اور خدا کی منکر ہو چکی ہے، ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح حلال ہی نہیں، البتہ اگر کوئی کتابیہ عورت اپنے اصل مذہب پر قائم ہو، تب بھی فی زمانہ اس سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت اس وقت ہے جب وہ زمیہ ہوں، یعنی وہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہو کر رہیں، اور جزیہ دینا قبول کریں، جبکہ موجودہ زمانے کے اہل کتاب حربی ہیں، اور حربیہ اہل کتاب کے ساتھ نکاح مکروہ تحریمی وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَ رَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.