Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نبی پاک کو دعا میں وسیلہ بنانا جائز ہے؟
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی فتوی نمبر: 6310:Lar
- Fatwa no.
- 6310:Lar
- Issued
- 20 جمادی الاول 1438ھ/18 فروری2017ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ شعر "یا الی رحم فرما مصطفی کے واسطے یار سول اللہ کرم کیجیے خدا کے واسطے" دعا میں پڑھنا کیسا ہے ؟ زید کہتا ہے جائز نہیں ہے اور اس کی دو وجوہات بیان کرتا ہے (1) اس میں نبی طی یہ کہ تم کو وسیلہ بنایا گیا ہے جو کہ ناجائز ہے دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) (2) دعاخالص عبادت ہے اس میں اللہ جل مجدہ سے دعا مانگتے ہوئے دعا کے دوران نبی علی کریم کی طرف متوجہ ہونا ہے جو کہ جائز نہیں۔ آپ سے التجاء ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل جواب عطا فرمادیں کہ زید کی باتیں کہاں تک درست ہیں اور شریعت کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
سائل: غلام مجتبی عطاری (جامعۃ المدینہ جوہر ٹاؤن) مندرجہ بالا شعر کو دعا میں اور دعا کے علاوہ بھی پڑھنا جائز و مستحسن ہے اور زید کی باتیں درست نہیں اور زید گناہ گار ہوا اس پر تو بہ لازم ہے کہ اپنی انکل سے شرعی مسئلہ بیان کرنا حرام ہے زید کو کچھ خبر ہے کہ مذکورہ شعر کس کا ہے ان کا جن کو عرب کے بڑے بڑے علمائے کرام مفتیان عظام نے مجد والدین والملی، شیخ الاساتذہ، امام کامل ، امام الائمہ جیسے القابات سے یاد فرما یا یعنی مذکورہ شعر ولی کامل امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا ہے جو کہ عین شریعت کے مطابق ہے جس کے جواز میں کسی عاقل و عالم کو تو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا ہاں جاہل اپنی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.