Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوران جماعت اگلی صف میں خلاء پُر نہ کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا عرفان صاحب زید مجده
- Fatwa no.
- 6302:Lar
- Issued
- 04 جمادی الاول 1438ھ/02فروری2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر جماعت کے دوران ایک شخص کا وضو ٹوٹ جائے اور وہ وضو کرنے کے لیے صف سے نکل جائے تو ایسی صورت میں اس کے جانے سے جو جگہ خالی ہو چکی ہے اگر کسی نے اس خلاء کو پر نہ کیا تو ایسی صورت میں ان لوگوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ سائل : محمد عدنان (چائنہ سکیم ،لاہور)
Answer (beginning)
اگر جماعت ہو رہی ہو اس دوران کسی مقتدی کا وضو ٹوٹ جائے اور وہ وضو بنانے کے لیے چلا جائے تو اس کی جگہ جو خالی ہوئی ہے بعد میں نئے آنے والے مقتدی کو چاہئے کہ وہاں کھڑا ہو جائے اور اگر کوئی کھڑا نہ ہوا اور وہ جگہ خالی ہی رہی تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور دوسروں کی نماز میں بھی کوئی نقص نہیں آئے گا کہ ابتدا ہی سے جگہ خالی چھوڑنے کا حکم علیحدہ ہے اور بعد میں کسی وجہ سے مقتدی کے چلے جانے سے جگہ کے خالی ہونے کا حکم اور ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.