Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا چچازاد بہن کی بیٹی سے نکا ح جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 863:Aqs
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے چازاد بھائی ، میری بہن کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ہم سب بھی راضی ہیں وہ بھی راضی ہیں لیکن خاندان والے کہتے ہیں کہ چچازاد بہن کی بیٹی گویا کہ اپنی بھانجی کی طرح ہوئی لہذا یہ نکاح نہیں ہو گا آپ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ؟ سائل : محمد یوسف عطاری رنچھوڑ لائن، کراچی)
Answer (beginning)
چازاد بھائی، بہنیں حقیقی بہنیں، اور بھائی نہیں بن جاتے کہ اس وجہ سے نکاح کی حرمت کے احکام لاگو ہوں۔ چا زاد بھائی بہن آپس میں نامحرم ہی ہوتے ہیں اور ان کی آپس میں ایک دوسرے سے شادی ہوسکتی ہے اسی طرح ان کی اولاد سے بھی ہو سکتی ہے لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی مانع رشتہ یعنی رضاعت یا مصاہرت و غیرہ کا سبب نہ ہو تو آپ کے چچازاد بھائی کا آپ کی بھانجی سے نکاح بالکل جائز ہے شرعا اس میں کچھ حرج نہیں، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے چچازاد بھائی تھے اور اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوا ہے لہذا سوال میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.