Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سینگ جڑ سے نکالے گئے جانور کی قربانی ہوجائیگی؟
- Answered by
- مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 12138:Kan
- Issued
- 26 ربیع الثانی 1438ھ /25 جنوری 2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے قربانی کا ایسا جانور خریدا جس کے سینگ جڑ سے نکال دیے گئے تھے، پھر اس کا زخم بھر کر ٹھیک ہو گیا اور وہاں کھال جڑ کر مکمل ٹھیک ہو گئی تو اب کیا ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔ تفصیل اس مسئلہ میں یہ ہے کی جس جانور کا سینگ ٹوٹ گیا ہوا اگر سر کے اوپر والا حصہ ٹوٹا ہو جو ظاہر ہوتا ہے تو قربانی جائز ہے اور اگر سر کے اندر جڑ تک ٹوٹے تو قربانی جائز نہیں لیکن اس صورت میں اگر سر کا زخم بھر جائے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو اب قربانی جائز ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَ رَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَ سَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net daruliftaahlesunnat f Dar-ul-Ifta AhleSunnat 同 feedback@daruliftaahlesunnat.net DaruliftAhlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.