Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قضا نمازیں عذر کی وجہ سے بیٹھ کرپڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

Fatwa no.
4916:Pin
Issued
22 صفر المظفر 1438ھ/23نومبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میری والدہ ماضی کی قضاء نمازیں وقتی نمازوں کے ساتھ ساتھ پڑھ رہی ہیں، اسکے متعلق سوال یہ ہے کہ کیا وہ وقتی نمازوں کی طرح قضاء نمازیں بھی بیٹھ کر پڑھ سکتی ہیں جبکہ یہ نمازیں تندرستی کی حالت میں قضاء ہوئی تھی، اور وقتی نمازیں اسلئے بیٹھ کر ادا کرتی ہیں کہ وہ جوڑوں کے درد کے باعث قیام اور سجدہ ادا نہیں کر سکتی، برائے کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں ؟

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں اگر واقعی آپ کی والدہ قیام پر بالکل یا سجدے پر قادر نہیں تو وہ قضاء نمازیں بھی وقتی نمازوں کی طرح بیٹھ کر ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ قضاء کرتے وقت اگر کوئی عذر ہو تو اس کا اعتبار کیا جاتا ہے مثلاً جب وہ نمازیں فوت ہوئی اس وقت قیام پر قدرت تھی، اب نہیں، تو وہ نمازیں بیٹھ کر ادا کی جاسکتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کسی جان پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اور تندرست ہونے کے بعد ان نمازوں کا اعادہ بھی نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.