Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عورت نے مسجد میں نوافل پرھنے کی منت مانی، کیا گھر میں پڑھ سکتی ہے؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
4892:Pin
Issued
01 صفر المظفر 1438ھ/02نومبر 2016ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک عورت نے اپنے بیٹے کے لئے بس پہ بخیر و عافیت ترکی جانے پر منت مانی کہ جتنے دن میں وہ ترکی پہنچے گا، میں روز قریبی مسجد میں جا کر بارہ نوافل ادا کروں گی، اب اسے اس منت کو پورا کرنے کے لئے مسجد میں جانا ضروری ہے ، یا گھر میں بھی ادا کر سکتی ہے؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں یہ نوافل ادا کرنے کے لئے مذکورہ مسجد (یعنی جس کامنت میں ذکر کیا گیا ہے) میں جانا ضروری نہیں، مسجد بیت میں یا گھر میں بھی ادا کرنے سے منت پوری ہو جائے گی، بلکہ انہیں مسجد بیت میں ہی ادا کرنے کا حکم ہو گا، کہ عورتوں کو مسجد کی حاضری منع ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم DaruliftAhlesunnat Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-Ifta AhleSunnat 目 feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.