Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آکٹوپس کھانا کیسا؟

Fatwa no.
4887:Pin

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ Octopus کھانا جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمادیں۔

Answer (beginning)

Octopus پانی کے جانداروں میں سے ایک جاندار ہے، اس کو عربی میں اخطبوط کہتے ہیں، اس کی کئی ٹانگیں ہوتی ہیں اور جڑوں کی طرح کافی پھیلی ہوتی ہیں، اسی وجہ سے جس برائی، گناہ یا عیب نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہو اس کو بھی اہل عرب کے نزدیک اخطبوط کہا جاتا ہے جیسے اردو میں ناسور کا لفظ بولا جاتا ہے۔ بہر حال Octopus کا کھانا نا جائز و حرام ہے کہ پانی کے جانوروں میں صرف مچھلی کھانا حلال ہے اس کے علاوہ پانی کے باقی سب جاندار حرام ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.