Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جماعت ترک کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 4886:Pin
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے کہ ایسا شخص جو جماعت سے نماز نہیں پڑھتا، لیکن کبھی کبھی وہ مسجد میں نماز بھی پڑھاتا ہے، تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
شریعتِ مطہرہ میں مخصوص شرائط کی موجودگی میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے ،اور ایسا شخص جس پر جماعت واجب ہو ، اور وہ بلا عذر شرعی ایک بار بھی اسے ترک کرے تو وہ گنہگار ہے ، اور اگر ترک کرنے کی عادت بنالیتا ہے تو وہ فاسق معلن ہے ، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی، کہ پڑھنی گناہ، اور اگر پڑھ لی تو اسکا اعادہ واجب ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat Dar-ul-Ifta AhleSunnat 同 feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.