Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قسم کھائی کہ ایک ماہ تک گھر نہیں جاؤں گا، اب کیا کرے ؟
- Fatwa no.
- 4886:Pin
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا کسی کے ساتھ جھگڑا ہو رہا تھا تو میں نے اس کو یہ کہہ دیا کہ مجھے قرآن پاک کی قسم میں ایک ماہ تک تمہارے گھر نہیں جاؤں گا، اب میں اس کے گھر ایک ماہ سے پہلے جانا چاہتا ہوں، اس کا کوئی شرعی حل ارشاد فرمادیں۔
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں آپ کے لیے قسم توڑے بغیر اس کے گھر ایک ماہ کے اندر جانے کی کوئی صورت نہیں، اگر قسم کھانے کے وقت سے ایک مہینہ کے اندراندر آپ اس شخص کے گھر میں گئے تو قسم ٹوٹ جائے گی اور اس کا کفارہ آپ پر لازم ہو گا، البتہ اگر ایک ماہ بعد جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ، قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرنا یادس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر وہ کھانا کھلانا ہے جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہیں، دسوں کو ایک ہی دن کھلایا جائے یا ہر روز ایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلایا جائے یادس مسکینوں کو کپڑے پہنائے جائیں اور اگر ان تینوں میں سے کسی ایک کی بھی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.