Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہوائی جہاز میں نماز کا کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- -5923:lar
- Issued
- 01 محرم الحرام 03/1438اکتوبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہوائی جہاز میں نماز کا کیا حکم ہے کیا ہو جاتی ہے ؟ یا بعد میں اعادہ کرناضروری ہوتا ہے؟
Answer (beginning)
ہوائی جہاز کی تین حالتیں ہوتی ہیں (1) ہوائی جہاز ائیر پورٹ پر کھڑا ہے (2) ہوا میں پرواز کر رہا ہے(3) رن وے پر چل رہا ہے۔ پہلی دونوں صورتوں میں نماز ہو جائے گی اور اس کے اعادہ کی بھی حاجت نہیں کہ پہلی صورت میں جہاز کو زمین پر استقرار حاصل ہے اور دوسری صورت میں اس کا حکم نیچ سمندر میں چلتی ہوئی کشتی کا ہے کہ اس میں نماز ہو جاتی ہے دونوں میں وجہ مناسبت یہ ہے کہ جیسے کشتی سے باہر زمین پر آکر نماز نہیں پڑھ سکتا اور کشتی روکنے سے زمین پر نہیں رکے گی ایسے ہی اڑتے ہوئے جہاز میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.