Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کےپلاٹ کے نیچے استنجاخانے بنانا جائز ہے یا نہیں؟

Fatwa no.
4878:Pin

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں کسی شخص نے ایک پلاٹ مسجد کے لیے دیا ہے، وہ پلاٹ ایک طرف سے اونچاد و سری طرف سے نیچے ہے، انتظامیہ والے یہ چاہتے ہیں کہ نیچے والی جانب پہلے بیسمنٹ میں وضو خانے، استنجا خانے اور مسجد کا سامان رکھنے کے لیے ایک چھوٹا سا کمرہ بنادیا جائے اور پھر اس کی چھت کو باقی زمین کے برابر کر کے اس پر مسجد بنا دی جائے، اس طرح مسجد کے ایک حصے کے نیچے وضو خانے اور استنجا خانے ہو جائیں گے ، کیا اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ سائل : خضر محمود عطاری (وارڈ نمبر 12، کہوٹہ ،راولپنڈی)

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں اس جگہ کو مسجد قرار دینے سے پہلے ، اگر نیچے وضو خانے، استنجا خانے اور مسجد کے سامان کے لیے کمرہ تعمیر کر دیا جائے، پھر اس کے اوپر مسجد تعمیر کر کے اوپر والے حصے کو مسجد قرار دیا جائے تو یہ شرعاً درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اوپر والا حصہ مسجد ہو جائے گا اور نیچے والا فنائے مسجد کہلائے گا، البتہ اگر پہلے اس پورے حصے کو مسجد قرار دے دیا تو اب اس جگہ پر مسجد کے علاوہ کوئی چیز نہیں بن سکتی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.