Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تین طلاقیں ہونے کے باوجود ساتھ رہنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 4879:Pin
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی مدخولہ زوجہ کو کئی بندوں کے سامنے تین طلاقیں دے دیں، وہ زوجہ کو تین طلاقیں دینے کا اقرار بھی کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ دونوں میاں بیوی بغیر حلالے کے میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہتے ہیں ، ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟ نیز باقی مسلمانوں کو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے ؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں بیان درست ہونے کی صورت میں شخص مذکور کی زوجہ پر تین طلاقیں ہو چکی ہیں اور اب وہ عورت اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے اور بغیر حلالہ شرعیہ کے اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں، اس کے باوجود ان دونوں کا بغیر حلالہ شرعیہ کے میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنا حرام اور ہم بستری کرنا زنا ہے ، ان دونوں پر فرض ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو بہ واستغفار کریں، اگر جدا نہ ہوں تو باقی تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، ان کی غمی خوشی میں شریک ہونا اور ان کو اپنی غمی خوشی میں شریک کرنا اور ان سے میل جول رکھنا ختم کر دیں، جب تک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.