Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کے تیجہ، چہلم و برسی وغیرہ کی نیاز کھانا کیسا ہے؟

Answered by
مولانا نوید چشتی صاحب زید مجده
Fatwa no.
4874:Pin

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو فوتگی والے دن کے کھانے ، نتیجے، ساتویں دسویں، بیسویں اور چالیسویں وغیرہ کے کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ نیز میلاد منذر اور نیاز کے کھانے کی کیا حیثیت ہے؟ وضاحت فرمادیں۔ سائل : محمد عثمان عزیز عطاری (گریڈ اسٹیشن، کہوٹہ ، راولپنڈی)

Answer (beginning)

ایسا کھانا جو ایام موت میں بطور دعوت کھلایا جاتا ہے وہ ممنوع اور بدعت ہے ، وہ نہ کھایا جائے اغنیاء کے لیے ناجائز ہے، فقراء کھا سکتے ہیں، اس کے علاوہ فاتحہ ، چہلم، برسی، ششماہی کا کھانا جبکہ ایصال ثواب کے لیے ہے تو غنی و فقیر سب کے لیے کھانا جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ غنی نہ کھائیں بلکہ فقیر کھائیں، اور اگر یہ کھانا صرف رسمی اور بھاجی کے طور پر کھلایا جاتا ہے تو یہ بالکل بے معنی ہے اس سے احتراز کرنا چاہیے البتہ اس کا کھانا منع نہیں اور میلاد یا نیاز کا لنگر کھانا بالکل جائز بلکہ باعث برکت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.