Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جوڑا بنے بالوں کے ساتھ نماز پڑھنا کیسا ؟

Fatwa no.
0259:Fmd
Issued
02 جمادی الاول 1438ھ /31 جنوری2017ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ احادیث طیبہ میں جوڑا باندھ کر (یعنی بالوں کو اکٹھا کر کے، سر کے پیچھے گرہ دے کر نماز پڑھنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے، تو آجکل عورتیں کیچر (Catcher) لگا کر بالوں کو اوپر کی طرف فولڈ کر لیتی ہیں، کیا کیچر (Catcher) یا کسی اور چیز کے ذریعہ جوڑا بنے بالوں سے (کے ساتھ ) نماز پڑھنا عورتوں کے لئے منع ہے؟

Answer (beginning)

احادیث طیبہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جوڑا بندھے بالوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی جو ممانعت فرمائی وہ ممانعت مردوں کے ساتھ خاص ہے، جس کی صراحت خود حدیث پاک میں موجود ہے، عورتوں کے لئے یہ ممانعت نہیں۔ مردوں کے لئے ممانعت کی حکمت شارحین حدیث نے یہ بیان فرمائی، کہ مرد کے سر کے ساتھ ساتھ اس کے بال بھی زمین پر گریں ، اور رب تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوں ، پھر اس پر فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بیان فرمایا، کہ جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا، مردوں کے لئے مکروہ تحریمی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.