Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی کی جگہ پر بغیر اجازت مسجد بنانے کا حکم؟

Fatwa no.
6088:Lar
Issued
01, بیع الاول 1438ھ/01دسمبر 2016ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زید کا دو مرلے گھر تھا اس کے پیچھے بکر کا چار مرلے کا پلاٹ تھا۔ بکر اپنی جگہ پر مسجد بنانا چاہتا تھا اور زید کا مکان جو متصل ہے اس کو مسجد میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ زید اپنا مکان بیچنا ہی نہیں چاہتا کیونکہ زید کو اس کے مکان کی قیمت کم دی جارہی تھی۔ بکر کو اپنے چار مرلے والی جگہ کے لئے بھی راستہ گلی سے مل رہا تھا اور زید کے علاوہ بھی ایک پلاٹ اور ساتھ خالی پڑا تھا۔ بکر نے زید کے والد کو ساڑھے چار لاکھ کی رقم دے کر جگہ خرید لی جبکہ اس جگہ کی قیمت اس سے زیادہ بنتی تھی۔ جب زید کو اس بات کا پتہ چلا کہ میرے والد کو پیسے دے کر میراگھر خرید لیا گیا ہے تو زید نے فورا اس کا انکار کیا اور قانونی کاروائی کی کہ میں یہ جگہ بیچنے پر راضی نہیں۔ بکر نے جگہ کی رقم دیتے ہی فورازید کا سامان باہر نکال کر اس گھر کو ختم کر دیا اور مسجد کی جگہ میں شامل کر دیا۔ زید کے گھر والی جگہ پر مسجد کے استنجاء خانے بنا دیئے ہیں۔ شرع اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟ کیا یہ جگہ مسجد کی ہو گئی؟

Answer (beginning)

بیان کی گئی صورت کے مطابق یہ بیچ نہیں ہوئی۔ یہ جگہ ابھی بھی زید کی ملکیت ہے۔ اس پر بکر کا اس طرح مسجد بنادینا درست نہ تھا، جب یہ مکان زید کا تھا تو زید کے والد کا زید کی طرف سے بیچنا شرعی رو سے ایک فضولی عمل تھا جو زید کی اجازت پر موقوف تھا، جب زید نے بعد میں اس خرید و فروخت کو منظور نہ کیا تو بیع باطل ہو گئی۔ اب اس جگہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ بکر وہ جگہ زید کو راضی کر کے اس سے خریدے۔ اگر زید اپنی خوشی سے فی سبیل اللہ مسجد کو دیدے تو ثواب عظیم کمائے گا اور اگر کچھ کم قیمت میں بیچ دے تب بھی ثواب کا مستحق ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.