Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عین مسجد کو وضو خانے میں شامل کرنے کا حکم

Fatwa no.
6143:Lar
Issued
11 صفر المظفر 1438 / 12 نومبر 2016ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے ایک مسجد بنائی ہے جس کی ایک طرف وضو خانہ بنوایا ہے ،اب وضوخانے میں توسیع کی حاجت ہے ، وضو خانے کے ساتھ تھوڑی سی جگہ ہے جہاں پر نماز تو نہیں پڑھتے لیکن اسے بھی عین مسجد ہی قرار دیا ہوا ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وضو خانے کے ساتھ والی جگہ کو وضو خانے میں شامل کر لیں کہ وہاں کون سی نماز پڑھتے ہیں ۔ اگر اس جگہ کو وضو خانے میں شامل کرتے ہیں تو کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں عین مسجد کی جگہ پر وضو خانہ بنانانا جائز و حرام ہے، کیونکہ جو جگہ ایک دفعہ مسجد بنادی تو قیامت تک کے لئے وہ مسجد بن گئی اب اس جگہ میں کسی طرح کی تبدیلی کر کے اسے کسی اور مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَنَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat W daruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net DaruliftAhlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.