Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ستونوں کے درمیان صف بندی کا حکم؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
6139:Lar
Issued
06, بیع الاول 06/1438دسمبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے کی مسجد میں جب جماعت کے لئے صفیں بنتی ہیں تو کچھ مقامات پر پنکھوں کے لئے لگائے گئے 2 یا تین انچ موٹے پائپ در میان میں آتے ہیں ایک عالم صاحب سے سنا تھا کہ یہ قطع صف ہے جب امام صاحب سے بات کی تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں حرج نہیں بعض مساجد میں تو صفوں کے درمیان بڑے بڑے پلر ہوتے ہیں پھر بھی لوگ بجماعت ان کے درمیان نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ستونوں کے درمیان نماز پڑھنا درست ہے ؟ نیز صف کے درمیان میں پائپ ہوں جن کی وجہ سے دو نمازیوں کے درمیان خلا رو جاتا ہو تو کیا یہ قلع صف نہیں ہے؟

Answer (beginning)

صف میں ستون یا ان پائپوں کی وجہ سے خلار بنا ضرور قطع صف ہے کہ اس سے صف دو ٹکڑے ہو جاتی ہے اور یہ مکروہ و ناجائز ہے۔ اور اگر صرف ستونوں کے درمیان صف ہو اس کے دائیں بائیں صف نہ بنائی جائے تو بھی یہ مکروہ ہے کہ صف کو نا مکمل چھوڑ دیا جبکہ اتمام صف ( یعنی صف کو مکمل کرنا ) واجب ہے۔ لهذا بلا ضرورت ستونوں یا پائیوں کی جگہ صف نہ بنائیں اتنی جگہ چھوڑ کر پیچھے صف بنائیں البتہ ان کے درمیان صف بنانے کی ضرورت ہو مثلا نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مسجد تنگ پڑے تو ضرور تا یہاں صف بنانا مکروہ نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.