Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محمد نام رکھنے کے متعلق حدیث پاک سے ثبوت
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- Lar:6156-A
- Issued
- 14 ربیع الاول 1438ھ /14دسمبر 2016ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ نام محمد رکھنا کسی حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟ اور یہ نام جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
نام محمد رکھنا جائز بلکہ مستحب یعنی ثواب کا کام ہے اور یہ حدیث مبارکہ سے ثابت ہے چنانچہ کنز العمال فی سنن الا قوال والافعال میں ہے ”من ولدله مولود ذکر فساہ محمد احبالی و تبرکاباسى كان هود مولوده فی الجنة " ترجمہ : جس کے لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام پاک سے تبرک کے لئے اس کا نام محمد رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں بہشت میں جائیں گے۔ (کنز العمال فی سنن الا قوال والافعال، جلد 16، صفحہ 422، مؤسسة الرسالة، بیروت) وَاللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.