Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گاڑی ادھار بیچ کر واپس خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

Fatwa no.
12145:Kan
Issued
01 جمادی الاول 1438ھ /30 جنوری2017ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید ایک شوروم سے گاڑی ادھار میں خریدتا ہے اور وہی گاڑی دوسرے شخص کو نقد یا ادھار میں بیچ دیتا ہے۔ پھر دوسرا و شخص وہی گاڑی اسی شوروم والے کو جس سے زید نے خریدی تھی، بیچ دیتا ہے۔ جبکہ ابھی زید نے شوروم والے کو پوری ادائیگی نہیں کی ہے۔ تو کیا شور دم والے کا اس طرح معاملہ کرنا صحیح ہے؟

Answer (beginning)

سوال میں پوچھی گئی صورت چند شرائط کے ساتھ جائز ہے، اگر ان میں سے کوئی شرط بھی نہ پائی گئی تو یہ معاملہ کرنا جائز نہیں ہو گا اور اس صورت میں بھی خرید وفروخت فاسد و ناجائز ہو جائے وہ شرائط درج ذیل ہیں : (1) زید نے شوروم سے گاڑی ادھار خریدی تو اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ قیمت کے معلوم ہونے کے ساتھ قیمت ادا کرنے کا کوئی وقت (Period) بھی مقرر و معلوم ہو۔ (2) اس سودے میں کوئی ناجائز شرط نہ لگائی گئی ہو مثلاً انشورنس یا جرمانے (Penalty) کی شرط کہ مقرر مدت تک رقم ادانہ کرنے کی صورت میں اضافی رقم لینا، یہ حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.