Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خون کی نمی کپڑوں پر لگ جاتی ہے نماز جائز ہےیانہیں؟

Answered by
مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
12085:Kan
Issued
18 ربیع الاول 1438ھ/18دسمبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے جس کی وجہ سے میری شلوار خون سے آلودہ ہو جاتی ہے لیکن زخم سے خون بہنے کے قابل نہیں ہو تا فقط اس کی تری سے شلوار بار بار لگ کر آلودہ ہو جاتی ہے ، میرے لیے وضو اور نمازوں کے لیے کپڑوں کی پاکی کے متعلق کیا حکم ہو گا؟ بواسیر کے سے پچھلی شرم گاہ کے بیرونی حصے پر ہیں، شرم گاہ کی نالی میں کوئی مسہ نہیں

Answer (beginning)

آپ کی بیان کردہ صورت کے مطابق جبکہ خون بہنے کے قابل نہیں ہو تا فقط اس کی نمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے کپڑا آلودہ ہو جاتا ہے تو اس کے سبب وضو نہیں ٹوٹے گا اور شلوار بھی ناپاک نہیں ہوگی۔ البتہ یادر ہے کہ آئندہ اگر ان مسوں سے نکلنے والا خون بہنے کے قابل ہوا تو جتنی بار بہے گا وضو کو توڑ دے گا، اور اس بہنے کی صورت میں خون کپڑے کو لگ جائے تو حکم یہ ہے کہ (1)اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زیادہ لگ جائے ، تو اس کا پاک کر نافرض ہے، بغیر پاک کیسے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصد آ پڑھی تو گناہ بھی ہوا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.