Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کافر کے سلام کا جواب دینا کیسا؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
6147:Lar
Issued
27 صفر المظفر 1438ھ/28نومبر 2016ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کافر سلام کرے تو اس کا جواب کس طرح دیا جائے ؟ اور اس میں ذمی و حربی کافر میں کچھ فرق ہے یادونوں کا ایک حکم ہے؟

Answer (beginning)

ہمارے زمانے میں تمام کفار حربی ہیں اور حربی کافر کو بلا خوف فتنہ جواب سلام دینے کی اجازت نہیں البتہ جواب نہ دینے میں اگر کسی فتنہ کا خوف ہو تو جواب دے سکتے ہیں مگر جواب میں الفاظ مروجہ جن میں نہ سلام ہو نہ اس کی تعظیم ، مثلا جناب ،صاحب یا فقط ہاتھ ہلادینا وغیرہ سے اگر کام چلتا ہو تو فقط اتنے الفاظ ہی کہے جائیں، ورنہ وہ اکیلا ہو تو جوابا فقط علیک یا وعلیک“ کہہ دیں اور اگر زیادہ ہوں تو " علیکم“ یا ”وعلیکم کہ لیں اور اگر اسقدر پر اقتصار میں بھی فتنے کا خوف صحیح ہو تو جوابا اس کے فرشتوں کی نیت سے وعلیکم السلام کہہ سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.