Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس سے ادھار خریدا اسے آدھا نفع دینا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 6135:Lar
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کپڑا سیل کرتا ہوں۔ طریقہ یہ ہے کہ میرے ماموں اپنے پیسوں سے انڈیا سے کپڑا منگواتے ہیں، میں وہ کپڑا ان سے ادھار پر خرید لیتا ہوں اور طے یہ ہوتا ہے کہ اس کی وہ مالیت جس پر ماموں نے خریدا ہے اور مزید بیچنے کے بعد جو نفع ہو گا اس میں سے آدھا ماموں کو دوں گا، کیا اس طرح کرنا درست ہے ؟ اگر اس میں کوئی خرابی ہے تو اس کا حل بھی بتادیں؟
Answer (beginning)
آپ کا اپنے ماموں سے اس طرح کپڑا خرید نانا جائز و گناہ ہے اور یہ بیچ فاسد ہے جس کو ختم کرنا دونوں پر لازم ہے کیونکہ اس میں کپڑے کی قیمت مجہول ہے کہ آپ نے یہاں دو چیزوں کو بطور قیمت مقرر کیا ہے (1) آپ کے ماموں کی قیمت خرید (2) آپ کو ہونے والے نفع میں سے آدھا حصہ ۔ اور آپ کو نفع کتنا ہو گا یہ مجہول ہے لہذا شمن مجہول ہونے کی وجہ سے یہ بیچ فاسد ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ آپ ایک مدت طے کر کے مقررہ قیمت پر اپنے ماموں سے وہ کپڑا خریدیں مثلا اگر ان کو وہ کپڑا 5 ہزار میں پڑا ہے تو آپ ان سے ایک ماہ کے ادھار پر 5 ہزار 5 سو کا خرید لیں یا 6 ہزار کا خرید لیں، قیمت جو بھی ملے ہو وہ معین ہو اور ساتھ ہی پیسے دینے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.