Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ولی اللہ کے نام پر جانور آزاد چھوڑ دینا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 6136:Lar
- Issued
- 14 صفر المظفر 1438ھ/15نومبر 2016ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی شخص نے ایک گائے کسی بزرگ کے نام پر چھوڑ رکھی ہے جو کبھی کسی کے کھیت میں جا کر اس کی فصل کھا جاتی ہے اور کبھی کسی کی دوکان پر جاکر اس کا غلہ کھانے لگتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں اسے منع نہ کرو، ورنہ نقصان ہو جائے گا۔ اس طرح لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لئے گائے آزاد چھوڑ دینے والے کے بارے میں کیا حکم ہے اور اس گائے کو نقصان پہنچانے سے منع کر سکتے ہیں کہ نہیں؟ ایک آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ بزرگ کے نام پر جانور مقرر کر ناہندؤوں کا طریقہ ہے۔ایسا کہنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
اس حد تک تو کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص اپنے کسی جانور کے بارے میں یہ نیت کر لے کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت غریبوں میں تقسیم کروں گا اور جو ثواب ہو گا وہ اس بزرگ کو پہنچاؤں گا کہ یہ ایصالِ ثواب (یعنی ثواب پہنچانے ) کا ایک انداز ہے اور ایصال ثواب قرآن و حدیث کے کثیر دلائل سے ثابت ہے۔ پھر اس نیک مقصد کے لئے بھلے وہ مختصر آیہ لفظ کہے کہ یہ جانور فلاں بزرگ کے نام کا ہے ، اس میں بھی کوئی قباحت نہیں، اور جبکہ یہ لفظ ایک مسلمان استعمال کرتا ہے لہذا ہم پر فرض ہے کہ ہم اسے ایصالِ ثواب ہی کے معنی میں قرار دیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.