Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تلاوت کرنے والےکو سلام کیا جائے تو جواب دے یانہیں؟
- Fatwa no.
- 6139:Lar
- Issued
- 27 صفر المظفر 1438ھ/28نومبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص مسجد میں تلاوت،آیت الکرسی وغیرہ ذکر اللہ میں مشغول ہو اور اسے کوئی اگر سلام کرے تو وہ سلام کا جواب دے یا تلاوت وغیرہ جاری رکھے ؟
Answer (beginning)
جب کوئی شخص تلاوت قرآن و تسبیح ، و درود و غیرہ ذکر اللہ میں مشغول ہو تو حکم ہے کہ آنے والا سلام نہ کرے اور اگر کر دے تو اس پر جواب دینا واجب نہیں اختیار ہے چاہے تو دے، چاہے تو تلاوت وغیر ہ جاری رکھے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَن مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.doruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftoahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulift Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.