Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 849:Aqs
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی سے لڑائی کے دوران یہ کہا کہ ”میں تمہیں چھوڑ دوں گا تو کیا یوں کہنے سے کوئی طلاق کا معاملہ تو نہیں ہوا، اس کے علاوہ میں نے کچھ بھی نہیں کہا، رہنمائی فرمائیں؟ سائل: محمد فیصل (صدر کراچی)
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے واقعی یہی الفاظ کہے تھے کہ "میں تمہیں چھوڑ دوں گا تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کہ چھوڑ دوں گا یہ طلاق کا ارادہ ہے اور محض ارادے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہذا آپ دونوں بدستور میاں بیوی ہی ہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم عَلى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftochlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.