Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیت میں زبر کو پیش پڑھ دیا نماز ہوئی یا نہیں؟

Fatwa no.
6134:Lar
Issued
25 محرم الحرام 1438ھ /26نومبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زید سے غطی ہوئی اس نے نماز میں آیت مبارکہ (مَنْ خَشِ الرَّحْمَنَ ) میں الرحمن پر زبر کی جگہ پیش پڑھ دیا تو کیا اس کی نماز ہو گئی یا اعادہ کرنا ہو گا ؟

Answer (beginning)

اعرابی غلطی کی وجہ سے معنی میں اگر اتنا تغیر ہو کہ اس کا اعتقاد اور قصداً پڑھنا کفر ہو، تو احوط یہ ہے کہ اعادہ کرے کیونکہ ہمارے علمائے متقدین اور خود ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم اس صورت میں فساد نماز کا حکم دیتے ہیں یہی دلیل کے اعتبار سے اقوی اور اسی پر عمل احوط واحری ہے۔ اور صورت مسئولہ میں بھی غلطی اسی نوعیت کی ہے لہذا احوط یہ ہے کہ اعادہ کرے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَنَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.