Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جرمانے کی شرط کے ساتھ قسطوں پر خریداری کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 6150:Lar
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قسطوں پر چیز لینا کیسا جبکہ قسط لیٹ ہونے کی صورت میں جرمانے کی شق بھی ہوتی ہو اور جس کمپنی سے وہ چیز لی جارہی ہے جب تک قسطیں مکمل ادانہ کر دی جائیں اس وقت تک وہ اس چیز کو خریدنے والے کے نام نہیں کرتی۔
Answer (beginning)
قسطوں کے کاروبار میں اگر یہ شرط رکھی جائے کہ قسط لیٹ ہونے کی صورت میں جرمانہ لازم ہو گا تو اس طور پر بیچنا اور خرید نانا جائز ہے کہ یہ تعزیر بالمال ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کر نانا جائز و حرام ہے اور اگر اس طرح عقد کر لیا تو وہ عقد فاسد ہے جس کو ختم کرنالازم ہے کیونکہ اس شرط کا نہ تو عقد تقاضا کرتا ہے اور نہ یہ عقد کے مناسب ہے اور اس میں بیچنے والے کا فائدہ بھی ہے اور ایسی شرط عقد کو فاسد کر دیتی ہے اور عقد فاسد کا ختم کرنالازم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.