Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآن خوانی میں بلند آواز سے تلاوت کرنا کیسا ہے؟
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 6160:Lar
- Issued
- 23 محرم الحرام 1438ھ /24 نومبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چند افراد قرآن خوانی کے لئے جمع ہوں اور سب بلند آواز سے تلاوت کریں تو شرعاً کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
اگر چند افراد ایک جگہ قرآن مجید فرقان حمید کی تلاوت بلند آواز سے کرتے ہیں اور کوئی سننے والا نہیں یا بعض کی تلاوت بعض اشخاص سنتے ہیں بعض کی کوئی نہیں سنتا یا تلاوت کرنے والے قریب قریب ہیں کہ آوازیں آپس میں مختلط ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے جداجدا اسننا میسر ہی نہیں رہتا تو یہ سب صورتیں بالاتفاق ناجائز و گناہ ہیں لہذا اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ یا تو سب آہستہ پڑھیں یا ہر قاری کے پاس کوئی سننے والا ہو اور ان میں باہم اتنا فاصلہ ہو کہ ایک کی آواز سے دوسرے کا دھیان نہ بٹے یا پھر ایک پڑھے اور باقی سب سنیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.