Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا کھڑے کو پڑا پڑھنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
6134:Lar
Issued
07 محرم الحرام 1438ھ/08نومبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص نماز میں فرقنا بکم البحر کو فرقن بکم البحر اسی طرح وعدنا کو وعدن، فانجیںکم کو فانجینکہ پڑھے تو کیا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں نماز فاسد نہیں ہو گی کیونکہ پہلی دونوں مثالوں میں حرف مدہ الف کی جگہ صرف زہر پر اکتفاء کیا ہے اور آخری میں کھڑے کو پڑا پڑھا ہے اور یہ دونوں چیزیں مفسد نماز نہیں کیونکہ بعض عرب الف کے عوض فتحہ پر اکتفاء کرتے ہیں اسی طرح کھڑے کو پڑا پڑھنا بھی بعض عرب کی لغت کے مطابق ہے اور جو تبدیلی لغت عرب کے مطابق ہو مفسد نماز نہیں ہو تی البتہ اس طرح قصد اپڑ ھنانا جائز ہے کہ یہ قرآن کو غلط پڑھنا ہے جس سے احتراز لازم ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.