Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بالغ لڑکا لڑکی کاکورٹ میرج کرنا کیسا ہے؟
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی فتوی نمبر: 6101:Lar
- Fatwa no.
- 6101:Lar
- Issued
- 27 محرم الحرام 1438ھ / 29اکتوبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک بالغ لڑکی اور بالغ لڑکے نے گھر والوں کی مرضی کے بغیر کورٹ میرج کی جہاں کسی مولانا صاحب نے دو گواہوں کے سامنے ایجاب و قبول کروایا۔ لڑکا، لڑکی کا کفو ہے یعنی کسی معاملے میں لڑکی سے اس قدر کم نہیں کہ اس کے ساتھ نکاح کرنا لڑکی کے اولیاء کے لیے باعث شرمندگی ہو، لڑکا راجپوت اور لڑکی آرائیں برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ یہ نکاح درست ہوا یا نہیں ؟
Answer (beginning)
مشتمل ہوتا ہے لڑکی لڑکے کاوالدین کی اجازت کے بغیر چھپ کر نکاح کر لینا ممنوع ہے کیونکہ عموماً یہ معاملہ کئی گناہوں پر مثلا غیر محرم مرد و عورت کا آپس میں تنہائی میں ملنا، بلاوجہ شرعی بات چیت کرنا، والدین کی تذلیل وایڈا کا سبب بننا و غیرہ لیکن چونکہ لڑکا، لڑکی دونوں بالغ ہیں اور لڑکا لڑکی کا کفو ہے یعنی کسی معاملے میں لڑکی سے اس قدر کم نہیں کہ اس کے ساتھ نکاح کرنا لڑکی کے اولیاء کے لیے باعث ننگ و عار ہو لہذا یہ نکاح درست واقع ہوا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.