Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل کاایک فرض بھولے سے رہ گیااورنمازپڑھ لی توکیاحکم ہے؟

Fatwa no.
26-WAT

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) اگر فرض غسل میں ناک میں پانی چڑھانا بھول گئے اور نماز بھی پڑھ لی، تو اب دوبارہ غسل کرنا ہو گا؟ یا صرف ناک میں ہی پانی چڑھا سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اگر کسی پر غسل فرض تھا اور اس نے پورے جسم پر پانی بہالیا اور کلی بھی کر لی مگر غسل کا ایک فرض رہ گیا یعنی ناک میں پانی نہیں چڑھایا تھا تو صرف یہی فرض ( ناک میں پانی چڑھانا) ادا کر لیں دوبارہ سے پورا غسل کرناضروری نہیں ہے، بشر طیکہ اس دوران غسل فرض کرنے والی کوئی چیز نہ پائی گئی ہو ۔ اور جہاں تک نماز کا مسئلہ ہے تو یہ یاد ہے کہ مکمل غسل کرنے (یعنی اس صورت میں ناک میں پانی چڑھانے) سے پہلے جو نمازیں ادا کی تھیں ، وہ نہیں ہوئیں، ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا ہو گا وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.