Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازمیں سینے کی ہڈی کے ابھرے حصے نظرآتے ہوں تونمازکاحکم
- Fatwa no.
- 24-WAT
- Issued
- 21 محرم الحرام 1443ھ /30 اگست 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر گردن کے نیچے سینے کی ہڈی کے دوا بھرے ہوئے حصے نظر آرہے ہوں، بقیہ سینہ نظر نہ آئے تو نماز کا کیا علم ہے؟
Answer (beginning)
اس صورت میں نماز بلا کراہت ہو جائے گی کہ سینے کا اتنا حصہ عادتا گھلا ہوتا ہے اور اس حالت میں معزز لوگوں کے سامنے جانے میں عار محسوس نہیں کی جاتی۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ”اوپر کا بو تام نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلا رہا یا شانوں پر کے چاک بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بو تام نہ لگائیں جب بھی کرتا نیچے ڈھلکے گا شانے ڈھکے رہیں گے تو حرج نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 385، رضا فاونڈیشن، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَد مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَإِلَيْهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta Ahlesunnot f…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.