Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صرف دکان کام کے لئے دے کرنفع لینا کیسا ہے؟

Fatwa no.
6001:Lar
Issued
04: والحد الحرام 07/1437 تمبر 2016ء

Question

صرف دکان کام کے لئے دے کر نفع لینا کیسا ہے؟ دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سہیل نے اپنی ذاتی دوکان مع مکمل سامان ( میز کرسیاں وغیرہ) اپنی رقم سے آفس کے طور پر تیار کی۔ پھر اس دوکان میں ارشد اور منیر کو پراپرٹی ڈیٹنگ کا کام اس طرح شروع کروایا کہ منیر پورا وقت دوکان پر بیٹھے گا اور ارشد تین گھنٹے دوکان پر دے گا۔ جبکہ یہ طے پایا ہے کہ سہیل خود کام نہیں کرے گا بلکہ دوکان کا کرایہ لینے کے بجائے کمیشن میں شریک ہو گا، اور کمیشن کے ذریعے جو آمدنی ہو گی تینوں میں تقسیم ہو گی۔ البتہ منیر کمیشن سے ایک حصہ زیادہ رکھے گا۔ ان تینوں کا اس طرح آپس میں کمیشن تقسیم کرنا درست ہے؟

Answer (beginning)

سوال میں مذکور شرکت جائز نہیں کیونکہ اس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ سہیل کی شراکت صرف دوکان و سامان کے ساتھ ہے اور وہ کام نہیں کرے گا، اور یہ شرط فاسد ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اسے فور اختم کرنا واجب ہے ، اور جو کمیشن ملاوہ منیر یا اس کے ساتھ کام کرنے والے ارشد کا ہو گا، جبکہ سہیل کو اس کی دوکان و سامان کی اجرت مثل ملے گی۔ نیز عقد فاسد کرنا چونکہ ناجائز وگناہ ہوتا ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ (جلد 17، صفحہ 595) میں فرمایا، لہذا ان سب پر اس سے تو بہ بھی ضروری ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.