Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کے سلام سے پہلے مسبوق کا بقیہ نما ز کے لئے کھڑا ہونا کیساہے؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
5994:Lar
Issued
22 محرم الحرام 1438ھ /24اکتوبر 2016ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام کے تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد مسبوق کا اپنی بقیہ نماز پڑھنے کیلئے امام کے سلام سے پہلے کھڑا ہو جانا کیسا ؟ مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی ؟

Answer (beginning)

صورت مذکورہ میں مسبوق کا امام کے سلام سے قبل کھڑا ہو جانا مکروہ تحریمی ہے۔ ہاں اگر کسی عذر کی بناء پر سلام سے قبل کھڑا ہو مثل اسلام کے انتظار میں وضو ٹوٹ جانے کا خوف ہو، فجر اور جمعہ وغیرہ میں نماز کا وقت ختم ہو جانے کا اندیشہ ہو ، موزہ پر مسح کیا ہے اور مسح کی مدت پوری ہو جائے گی وغیرہ تو کراہت نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta Ahlesunnat f daruliftaahlesunnat ay feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulift Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.