Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سجدہ سہو واجب نہ ہو،اس کے باوجود سجدہ سہو کرنا
- Answered by
- سید مسعود على العطاري المدني مصدق ابو محمد علی اصغر العطاری المدنی فتوی نمبر:63-Web
- Fatwa no.
- 63-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر نماز میں سجدہ سہو واجب نہ تھا لیکن بھول کر سجدہ سہو کر لیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
بلا حاجت سجدہ سہو کرنا، ممنوع ہے، البتہ نماز ہو جائے گی۔ ہاں اگر امام نے ایسا کیا اور مسبوق مقتدی یعنی جس کی کوئی رکعت نکل چکی تھی وہ امام کے ساتھ اس سجدہ سہو میں شریک ہوا تو اس مقتدی کی نماز ٹوٹ جائے گی۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ : جس نماز میں سہو نہ ہوا اور سجدہ سہو کیا تو نماز جائز ہے یا نہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.