Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قعدہ اولی میں بیٹھنا بھول جائے تو اس کی تین صورتیں ہیں
- Fatwa no.
- 60-Web
- Issued
- 28 جمادی الاخریٰ 1442ھ /11 فروری2021ء
Question
ہو گا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی قعدہ اولی میں بیٹھنا بھول جائے اور کھڑا ہو جائے تو اب کیا کرنا
Answer (beginning)
قعدہ اولی میں بیٹھنے کی بجائے بھول کر کھڑا ہونے کی تین صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ وہ بھول کر سیدھا کھڑا ہو گیا تو اب اسے واپس لوٹنا جائز نہیں ہے بلکہ آخر میں سجدہ سہو کر لے ،اگر واپس آئے گا تو گنہگار ہو گا بلکہ واپس لوٹ کر بیٹھ بھی گیا تو حکم ہے کہ فورا کھڑا ہو جائے۔ ا دوسری صورت یہ ہے کہ بیٹھنے کے قریب تھا یعنی نیچے کا آدھا بدن سیدھا نہ ہوا تھا کہ اسے یاد آ گیا تو فورا بیٹھ جائے اور اس صورت میں سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.