Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماں کی خالہ کے بیٹے سے نکاح کا شرعی حکم
- Fatwa no.
- 46-web
- Issued
- 22 جمادی الاولی 1442ھ /07 جنوری2021ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا ماں کی خالہ کے بیٹے سے نکاح ہو جاتا ہے ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! اگر ممانعت کی کوئی اور وجہ ( مثلا دودھ کا رشتہ وغیرہ) نہ پائی جائے تو ماں کی خالہ کے بیٹے سے نکاح ہو سکتا ہے۔ اگر چہ ماں کے خالہ زاد بھائی کو ہمارے عرف میں ماموں کہا جاتا ہے لیکن یہ حقیقی ماموں نہیں، نہ ہی اس سے نکاح کرنے کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ لہذا اس نکاح میں حرج نہیں۔ جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کا بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” وَأُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذلِكُم ترجمہ : اور اُن کے سوا جو ر ہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.