Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دادا کی وراثت میں یتیم پوتے کا حصہ

Fatwa no.
45-web
Issued
22 جمادی الاولی 1442ھ /07 جنوری2021ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ یتیم پوتا اپنے دادا کی وراثت کا حقدار ہو گا یا نہیں جبکہ اس کے والد کا انتقال دادا کی زندگی میں ہی ہو گیا ہو ؟ سائلہ : ساره

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر دادا کے انتقال کے وقت دادا کا کوئی اور بیٹا یعنی یتیم بچے کا چا، تایا موجود ہو تو پوتے کو دادا کی وراثت سے حصہ نہیں ملے گا۔ البتہ بالغ ورثاء کو چاہیے کہ اپنے حصوں میں سے یتیم بچوں کو بھی کچھ دے دیں کہ یہ مستحب اور ثواب کا کام ہے ، لیکن نا بالغ اور غیر موجود وارث کے حصے میں سے دینے کی اجازت نہیں۔ اللہ تبارک و تعالی قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے : وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبَى وَالْيَتَنِي وَالْمَسْكِينُ فَارُهُ قُوْهُمْ مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا، ترجمہ کنز الایمان : پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو اس میں سے انہیں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.