Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جنبی کی نمازکے آخری وقت میں آنکھ کھلی توکیاکرے
- Fatwa no.
- 10-WAT
- Issued
- 16 محرم الحرام 1443ھ /25 اگست 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر غسل فرض ہو، لیکن وقت اتنا کم ہو کہ غسل نہ کر سکیں، تو پھر کیا کیا جائے؟ اگر کسی شخص:
Answer (beginning)
ر غسل فرض ہے اور وہ مثلا نماز فجر کے لئے ایسے وقت میں اٹھا کہ نماز کا ٹائم ختم ہونے کے بالکل قریب ہے، اس طرح کہ وہ غسل کر کے دور کعت فرض بھی ادا نہیں کر سکتا، تو وہ فورا تیم کر کے نماز ادا کر لے ، پھر بعد میں پانی سے طہارت حاصل کر کے غیر مکر وہ وقت میں اس نماز کا اعادہ کرے۔ نوٹ : غسل سے مراد صابن شیمپو وغیرہ کے ساتھ نہانا نہیں بلکہ یہ کہ صرف فرائض ادا کیے جائیں یعنی ہونٹ حلق کی جڑ تک منہ کے ہر پرزے گوشے پر پانی پہنچ جائے، ناک کے دونوں نتھنوں کا جہاں تک نرم حصہ ہے، وہ سارادھل جائے اور پورے جسم پر اس طرح پانی بہادیا جائے کہ جسم کے ہر ہر بال اور ہر ہر رونگٹے سے پانی کے کم از کم دو قطرے بہہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.